Daaghdaar by Fatimah Khan
یہ تحریر بڑے حساس موضوع کو بیان کرے گی اس موضوع کو جس پہ لکھنے کا میرا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں تھا کبھی بھی۔۔۔۔ ۔۔۔ اور یہ موضوع شاید ذاتی طور پہ میرے لیے بھی غیر آمدہ ہوسکتا ہے لیکن اتنا معلوم ہے موضوع غیر آمدہ بھلے ہو لیکن یہ تحریر نہیں ۔۔۔۔۔۔
یہ کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جس پہ کبھی کوئی بات نہیں ہوئی یا کوئی کہانی یا ڈارمہ نہیں بنا مگر میں اس موضوع کو اپنے انداز میں لکھنا چاہتی ہوں۔
یہ تحریر ایک گھر کی مانند ہوگی ۔ مجھے تو اسکے لیے یہی الفاظ مناسب لگے ہیں۔
گھر یعنی سکون، کمفرٹ زون، نرم گرم سا احساس ۔۔۔۔۔
انگریزی میں کہا جائے تو
Just like a warm hug
ایک خاص بات یہ کہ میں نے اپنی سب سے پہلی تحریر سترہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کی تھی ۔ جس کے سات آٹھ صفحات اب بھی میرے فون میں محفوظ ہیں ۔۔ آگے اس کو مکمل نہیں کرپائی۔ اور مزے کی بات وہ ایک گینگسٹر بیسڈ ناول تھا (یونو سترہ سال کی لڑکی ) ڈونٹ جج ۔۔۔۔ (پھر بھی وہ آجکل کے ناولز سے ہزار گنا بہتر تھا)
سو واپس مقصد پہ آئیں تو اس کہانی کا نام میں نے داغدار رکھا تھا
اور جیسے ہی اس تحریر کا خیال میرے ذہن میں آیا تو اگلا خیال اسکے نام کا تھا یعنی اسکا نام داغدار ہونا چاہیئے! کیوں ہونا چاہیئے ؟ یہ تحریر پڑھ کہ آپکو اندازہ ہوگا۔
بہت مختصر تحریر ہوگی شاید چند صفحات کا افسانہ۔۔۔۔۔کب لکھی جائے گی معلوم نہیں لیکن اللہ نے چاہا تو ضرور لکھی جائے گی۔