Meray Dil Meray Musafir by izza iqbal
یہ کہانی جہاں ہلکی پھلکی سی ہے وہیں خد میں ایک سنجیدہ پیغام لئے ہوئے ہے۔ کہانی پڑوسیوں کے گرد گھومتی ہے۔
Where Stories Run Wild and Imagination Runs Wilder!
یہ کہانی جہاں ہلکی پھلکی سی ہے وہیں خد میں ایک سنجیدہ پیغام لئے ہوئے ہے۔ کہانی پڑوسیوں کے گرد گھومتی ہے۔
یہ کہانی دوستوں کی محبت کی ہے۔ بڑوں کی محبت جب بچوں میں منتقل ہوتی ہے تو اس کی جڑیں کچھ یوں مضبوط ہوتی ہیں کہ پھر بڑوں کے دلوں میں آئی کدورت بھی اس کو کمزور نہیں کر پاتی۔ بھائی اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر کیسے معاشرے کے سامنے ڈھال بن جاتے ہیں یہ کہانی ان سب احساسات کے گرد گھومتی ہے۔
یہ کہانی مجھے بہت خوبصورت لگی، اک رومانوی داستان تو ہے ہی اس کے ساتھ جوائنٹ فیملی کی جو خوبصورتی دکھائی گئی ہے اور حس مزاح کے تو کیا ہی کہنے ۔
کہانی کی چھوٹی سی تفصیل یہ ہے کہ ہیرو صاحب کے گھر والے ان کی شادی کروانا چاہ رہے ہیں وہاں جہاں ہیرو بالکل رضامند نہیں ہے اور کیوں رضامند نہیں ہے اس کے پیچھے بہت مزے کی ماضی کی کہانی ہے۔
حاصل زیست مطلب کل عمر کی کمائی، یہ کہانی وجیہہ محمود کی پہلی کہانی ہے اور حیران کن طور پر اس کہانی کی بنائی ہرگز کسی نولکھاری کی سی معلوم نہیں ہوتی۔ منظر نگاری سے لے کر کرداروں کی شخصیت تک سب چیزیں بہت بہترین انداز میں رقم کی گئی ہیں۔
اس کہانی میں میرا سب سے پسندیدہ کردار آبرو کا اور تاشفین کا تھا، اپنی زندگی کے اتنے کٹھن مرحلوں سے گزرنے کے باوجود بھی انہوں نے تلخی کو اپنے اندر سمونے کی اجازت نہیں دی۔ رشتوں سے دھوکہ کھانے کے باوجود بھی انہوں نے رشتوں کے تقدس اور ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھا۔
رتبہ ، اصباح، فائق ،زاویار اور نور فجر کے کردار بھی قابل ستائش ہیں جن کے بغیر یہ کہانی اتنی مکمل نہ ہوتی۔
سبرینہ کا سفر اور اس کا حاصل زیست ہم سب کیلئے اک غور طلب پہلو ہے جس نے اپنے اک غلط فیصلے کو زندگی پر حاوی نہیں ہونے دیا، اپنی غلطی کا اعتراف اور پھر اس پر پشیمانی نے اسے دوبارہ کھڑے ہونے میں مدد کی۔
اس نے دل میں مایوسی کو بسنے نہ دیا اور حالات کو بدلنے کی ٹھانی تو قسمت بھی اس کا ہاتھ تھامتی چلی گئی۔
یہ کہانی مختلف کرداروں کے گرد گھومتی ہے اور تجسس اختتام تک برقرار رہتا ہے۔
یہ ام ملائکہ کی پہلی تحریر ہے جس کے زریعے میرا ان سے تعارف ہوا۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ بہت عرصے بعد اس قدر خوبصورت اور الفاظ کی گہرائی والی کہانی پڑھنے کو ملی۔ اس کہانی کی گہرائی اور اس کی انفرادیت نے مجھے اس کہانی کو اور ام ملاکہ کی دیگر کہانیوں کو پڑھنے پر مجبور کردیا ہے۔
یہ کہانی ہمارے معاشرے کی اس برائی کی نشاندہی کرتی ہے جس کا ذکر شاید ہی ہم نے کبھی سنا ہو۔ یہ کہانی عام انسانوں سے مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں کی ہے۔۔۔ مجھے ہرگز یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوگی کہ دیگر مسائل کی طرح یہ بات بھی آپ کی توجہ کی حامل ہے۔
یہ کہانی اک ایسی لڑکی کی ہے جسے شادی سے خوف آتا ہے ، جو ذہنی طور پر اس رشتے کیلئے تیار نہیں ہوتی۔ جس کے نزدیک محبت جسمانی قربتوں سے دور احساس، قدر روانی، ذہنی ہم آہنگی اور مسکراہٹوں سے بھرپور کسی بھی غرض سے پاک اک جذبہ ہے۔
دوسری جانب اک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو قریبا چند ماہ میں ہی اپنی بیوی کو اک حادثے میں کھو دیتا ہے۔
کہانی پھوپھو کی لاڈلی اور پھوپھو کے اکلوتے سپوت کی ہے ۔۔۔جہاں پھوپھو کی لاڈلی کے خیالات پھوپھو کے سپوت کے متعلق خاصے خراب ہیں جبکہ ہیرو اپنے آپ میں ایک ہیرو ہے جس سبب ان کی نوک جھونک بھی چلتی رہتی ہے۔۔۔ پھوپھو کی بھتیجی نو لفٹ کا بورڈ لگائے ہوئے پھوپھو کے بیٹے سے خاصی تنگ ہیں اور پھوپھو کا بیٹا موسٹ ویلکم کا بورڈ لگائے آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کررہا ہے۔۔۔ اس کہانی کا دوسرا پہلو محبت ہے۔۔۔ جہاں کہیں مجسمہ محبت خوف کے زیر سایہ آجاتا ہے تو کہیں محبت مایوسیوں کے صحرا میں قطبی ستارہ ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہے۔۔
یہ کہانی کسی کو اپنی محبت سے بدل دینے کی ہے۔۔۔وہاں جہاں ہمسفر ساتھ چلنے کو روادار نہیں ۔۔۔وہاں جہاں آخری خواہش بھی رد ہوتی محسوس ہورہی ہے۔۔طاقت۔۔۔حق۔۔۔جذبات رکھنے کے باوجود بھی سامنے والے کو آزاد کردینے کی یوں کہ اپنی کل کائنات محض محبوب کی انا کی سلامتی کیلئے وار دی جائے ۔۔۔محبت اور انا کی ایسی جنگ جہاں نفرت کا کوئی ذکر نہیں ۔۔۔وہاں جہاں بے رخی و بے اعتنائی کے سبب دل کے زنگ آلود دروازے پر محبت کی مسلسل دستک بھی ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔۔یہ کہانی صحیح غلط کے فرق سے کہیں پرے جذبات اور احساس کی ہے۔۔کچھ پاکر کھو دینے تو کھو کر پادینے کی۔۔۔