Phupho ki bhatijiyan by Ayesha Falak Shair
Phupho ki bhatijiyan by Ayesha Falak Shair Download Read Online
Where Stories Run Wild and Imagination Runs Wilder!
Phupho ki bhatijiyan by Ayesha Falak Shair Download Read Online
یہ کہانی اک رومانوی داستان سے زیادہ بہن کی اپنے بھائی سے انسیت اور بےلوث محبت پر مبنی ہے جس کو وقت کا گرداب اور سوتیلے و سگے کا فرق بھی مٹا نہیں پاتا۔
اک چھوٹا سا ناولٹ ہے مجھے امید ہے آپ کو پڑھ کر ضرور پسند آئے گا۔
حاصل زیست مطلب کل عمر کی کمائی، یہ کہانی وجیہہ محمود کی پہلی کہانی ہے اور حیران کن طور پر اس کہانی کی بنائی ہرگز کسی نولکھاری کی سی معلوم نہیں ہوتی۔ منظر نگاری سے لے کر کرداروں کی شخصیت تک سب چیزیں بہت بہترین انداز میں رقم کی گئی ہیں۔
اس کہانی میں میرا سب سے پسندیدہ کردار آبرو کا اور تاشفین کا تھا، اپنی زندگی کے اتنے کٹھن مرحلوں سے گزرنے کے باوجود بھی انہوں نے تلخی کو اپنے اندر سمونے کی اجازت نہیں دی۔ رشتوں سے دھوکہ کھانے کے باوجود بھی انہوں نے رشتوں کے تقدس اور ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھا۔
رتبہ ، اصباح، فائق ،زاویار اور نور فجر کے کردار بھی قابل ستائش ہیں جن کے بغیر یہ کہانی اتنی مکمل نہ ہوتی۔
سبرینہ کا سفر اور اس کا حاصل زیست ہم سب کیلئے اک غور طلب پہلو ہے جس نے اپنے اک غلط فیصلے کو زندگی پر حاوی نہیں ہونے دیا، اپنی غلطی کا اعتراف اور پھر اس پر پشیمانی نے اسے دوبارہ کھڑے ہونے میں مدد کی۔
اس نے دل میں مایوسی کو بسنے نہ دیا اور حالات کو بدلنے کی ٹھانی تو قسمت بھی اس کا ہاتھ تھامتی چلی گئی۔
یہ کہانی مختلف کرداروں کے گرد گھومتی ہے اور تجسس اختتام تک برقرار رہتا ہے۔
آسیہ رئیس خان کی یہ خاصیت ہے کہ اُنکی بیشتر کہانیاں اور اُنکے کردار ہمارے اور آپکے جیسی عام زندگی سے تعلق رکھنے والے اور حقیقت سے بہت قریب تر ہوتے ہیں ۔اُنکے قلم کی یہی سادگی اُنکے کام کو منفرد اور خاص بناتی ہے ۔۔۔
اس کہانی کا موضوع بھی ایسا ہی دل کو چھو لینے والا تھا کہ کیسے بعض اوقات خلوص اور نیک نیتی سے لیے ،بظاھر درست نظر آنے والے فیصلے بھی کسی کے لیے غلط ثابت ہو جاتے ہیں ایسے میں ہمیں اپنے دل میں گنجائش اور فیصلوں میں لچک رکھنی چاہیے کیونکہ۔۔۔”ہم سب کہیں نہ کہیں غلط ہوتے ہیں لیکن اِن غلطیوں کو بنیاد بنا کر ہم ہمیشہ کے لیے کسی کو ولن نہیں بنا سکتے وقت،انسان، حالات ،خیالات سب بدلتے ہیں تو پھر غلط اور غلطی پر اڑ کر اُسے دائمی کیوں بنایا جائے؟اِسکی بنیاد پر ہمیشہ کے لیے تعلق کیوں توڑا جائے اور رشتے سے موقع کیوں چھینا جائے ”
تبصرہ نگار عائشہ
جیسا کہ میں نے کہا تھا یہاں آپ کو وہ کہانیاں ملیں گی جو میں نے پڑھ رکھی ہوں گی۔ دست بے طلب میں پھول، یہ کہانی میں نے کچھ عرصہ پہلے ہی پڑھی تھی اور مجھے بہت اچھی لگی۔ سب سے منفرد اور خصوصیت والی بات یہ کہ یہ عام طور پر حویلی پر لکھی جانے والی کہانیوں سے کافی مختلف ہے اور اس میں اک ایسی رسم کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے جو شاید ہم جیسے لوگ تصور بھی ناں کرسکیں۔ میں نے پہلی بار اس کے متعلق تب سنا تھا جب ذہن بھی کچا تھا اور پی ٹی وی کے ڈرامے معیار کے عروج پر تھے۔
بلاشبہ یہ کہانی بہت خوبصورت ہے اور پھر عفت سحر طاہر کا قلم ہو۔ زندگی کے کسی موڑ پر آپ کو کچھ لوگ مل جاتے ہیں ناں یونہی انہیں میں سے کسی نے کہا تھا عفت سحر میری پسندیدہ لکھاری ہیں ۔
اک بھولی سی یاد آگئی تو سوچا کیوں ناں ذکر کردیا جائے۔
کہانی پھوپھو کی لاڈلی اور پھوپھو کے اکلوتے سپوت کی ہے ۔۔۔جہاں پھوپھو کی لاڈلی کے خیالات پھوپھو کے سپوت کے متعلق خاصے خراب ہیں جبکہ ہیرو اپنے آپ میں ایک ہیرو ہے جس سبب ان کی نوک جھونک بھی چلتی رہتی ہے۔۔۔ پھوپھو کی بھتیجی نو لفٹ کا بورڈ لگائے ہوئے پھوپھو کے بیٹے سے خاصی تنگ ہیں اور پھوپھو کا بیٹا موسٹ ویلکم کا بورڈ لگائے آگ پر تیل چھڑکنے کا کام کررہا ہے۔۔۔ اس کہانی کا دوسرا پہلو محبت ہے۔۔۔ جہاں کہیں مجسمہ محبت خوف کے زیر سایہ آجاتا ہے تو کہیں محبت مایوسیوں کے صحرا میں قطبی ستارہ ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہے۔۔
“لمحوں کی مسافتیں” عمارہ تبریز خان کے سفر کی کہانی ہے جو رشتوں کی بے ثباتی اور خود کو ڈھونڈنے کی ایک پیچیدہ جدوجہد پر محیط ہے۔ اپنے والدین کے علیحدگی کے بعد دوسری شادیاں کر لینے اور اپنی نئی زندگیوں میں مصروف ہو جانے کے بعد، عمارہ اپنی تائی اور تایا کے ساتھ رہتی ہے۔ مادی comforts (سہولیات) کے ہر سامان کے باوجود، وہ ایک گہری تنہائی اور بے سکونی کا شکار ہے۔وہ خلا جو والدین کی غیر مشروط محبت چھین کر لے جاتی ہے۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہینگ آؤٹ کرتی، مستی اور موج کرتی نظر آتی ہے، مگر یہ سب اس کے اندر کی بے چینی کو دائمی سکون عطا نہیں کر پاتے۔
دوسری طرف انش ہے’ اپنے والدین کے لاڈ، پیار اور اعتماد سے پروان چڑھا ایک مثالی، خوداعتماد اور ہر field (میدان) میں کامیاب نوجوان۔ وہ اپنے خاندان کی امیدوں کا مرکز اور ان کا فخر ہے۔
جب عمارہ اور انش دونوں کا clash ہو گا، تو یہ محض دو افراد کا ملاپ نہیں ہوتا، بلکہ دو متضاد worlds (دنیاؤں) کا تصادم ہوتا ہے—ایک جو محرومیوں سے بھری ہے اور دوسرا جو اعتماد سے لبریز ہے۔
یہ ناول صرف ان دونوں کی کہانی نہیں ہے۔ یہ ان کے گرد گھومتے ہوئے دیگر کرداروں کے ذریعے بھی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو چھوتا ہے۔ یہ کردار نہ صرف عمارہ اور انش کے سفر کو مضبوط بناتے ہیں بلکہ کہانی کو ایک وسیع اور مربوط shape (شکل) دیتے ہیں۔ ہر کردار اپنے اپنے مسائل، اپنی جدوجہد اور اپنے حل کے ساتھ کہانی کے تانے بانے میں گُندھا ہوا ہے، جو اس ناول کو محض ایک رومانوی کہانی سے بڑھ کر زندگی کے ارد گرد گھومنے والی ایک ایسی تصویر بنا دیتا ہے جہاں ہر کوئی اپنے لمحوں کی مسافت طے کر رہا ہے۔
یہ ایک ایسی داستان ہے جو محبت، تنہائی، خاندان، دوستی اور اپنے آپ سے جڑنے کو نہایت ہی خوبصورتی اور گہرائی سے express (بیان) کرتی ہے۔