
Jo Wada Kiya Nahi Tha by Rashida Riffat | Read Online | KahaniFreak
What if the promise you were waiting for was never actually made?
Where Stories Run Wild and Imagination Runs Wilder!

What if the promise you were waiting for was never actually made?

یہ کہانی کزنز کے گرد گھومتی ہے ، جہاں مجبت کہیں عمر کے فرق کی ذد میں آتی ہے تو کہیں معاشرے کی دقیا نوسی سوچ سے سہم جاتی ہے۔ مائیسہ سلیمان اور زاویر اصفہانی کی محبت بھی گوکہ ‘محبت مہتاب کے ہم رنگ کنول’ تھی۔ اس نام کا مطلب آپ کو کہانی پڑھ کر سمجھ آئے گا۔
یہ تحریر بڑے حساس موضوع کو بیان کرے گی اس موضوع کو جس پہ لکھنے کا میرا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں تھا کبھی بھی۔۔۔۔ ۔۔۔ اور یہ موضوع شاید ذاتی طور پہ میرے لیے بھی غیر آمدہ ہوسکتا ہے لیکن اتنا معلوم ہے موضوع غیر آمدہ بھلے ہو لیکن یہ تحریر نہیں ۔۔۔۔۔۔
یہ کوئی ایسا موضوع نہیں ہے جس پہ کبھی کوئی بات نہیں ہوئی یا کوئی کہانی یا ڈارمہ نہیں بنا مگر میں اس موضوع کو اپنے انداز میں لکھنا چاہتی ہوں۔
یہ تحریر ایک گھر کی مانند ہوگی ۔ مجھے تو اسکے لیے یہی الفاظ مناسب لگے ہیں۔
گھر یعنی سکون، کمفرٹ زون، نرم گرم سا احساس ۔۔۔۔۔
انگریزی میں کہا جائے تو
Just like a warm hug
ایک خاص بات یہ کہ میں نے اپنی سب سے پہلی تحریر سترہ سال کی عمر میں لکھنا شروع کی تھی ۔ جس کے سات آٹھ صفحات اب بھی میرے فون میں محفوظ ہیں ۔۔ آگے اس کو مکمل نہیں کرپائی۔ اور مزے کی بات وہ ایک گینگسٹر بیسڈ ناول تھا (یونو سترہ سال کی لڑکی ) ڈونٹ جج ۔۔۔۔ (پھر بھی وہ آجکل کے ناولز سے ہزار گنا بہتر تھا)
سو واپس مقصد پہ آئیں تو اس کہانی کا نام میں نے داغدار رکھا تھا
اور جیسے ہی اس تحریر کا خیال میرے ذہن میں آیا تو اگلا خیال اسکے نام کا تھا یعنی اسکا نام داغدار ہونا چاہیئے! کیوں ہونا چاہیئے ؟ یہ تحریر پڑھ کہ آپکو اندازہ ہوگا۔
بہت مختصر تحریر ہوگی شاید چند صفحات کا افسانہ۔۔۔۔۔کب لکھی جائے گی معلوم نہیں لیکن اللہ نے چاہا تو ضرور لکھی جائے گی۔
یہ کہانی کزنز کے گرد گھومتی ہے جہاں خوشیوں کا جہان آباد ہے اور بچپن کے دوست جو ایک دوسرے کی پسند ناپسند سے بخوبی واقف ہیں اور اس واقفیت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے وہ ایک دوسرے کو چڑاتے ہیں۔
Main Sherminda Hon by Nabila Aziz Download Read Online
یہ کہانی جہاں ہلکی پھلکی سی ہے وہیں خد میں ایک سنجیدہ پیغام لئے ہوئے ہے۔ کہانی پڑوسیوں کے گرد گھومتی ہے۔
یہ کہانی اک رومانوی داستان سے زیادہ بہن کی اپنے بھائی سے انسیت اور بےلوث محبت پر مبنی ہے جس کو وقت کا گرداب اور سوتیلے و سگے کا فرق بھی مٹا نہیں پاتا۔
اک چھوٹا سا ناولٹ ہے مجھے امید ہے آپ کو پڑھ کر ضرور پسند آئے گا۔
آسیہ رئیس خان کی یہ خاصیت ہے کہ اُنکی بیشتر کہانیاں اور اُنکے کردار ہمارے اور آپکے جیسی عام زندگی سے تعلق رکھنے والے اور حقیقت سے بہت قریب تر ہوتے ہیں ۔اُنکے قلم کی یہی سادگی اُنکے کام کو منفرد اور خاص بناتی ہے ۔۔۔
اس کہانی کا موضوع بھی ایسا ہی دل کو چھو لینے والا تھا کہ کیسے بعض اوقات خلوص اور نیک نیتی سے لیے ،بظاھر درست نظر آنے والے فیصلے بھی کسی کے لیے غلط ثابت ہو جاتے ہیں ایسے میں ہمیں اپنے دل میں گنجائش اور فیصلوں میں لچک رکھنی چاہیے کیونکہ۔۔۔”ہم سب کہیں نہ کہیں غلط ہوتے ہیں لیکن اِن غلطیوں کو بنیاد بنا کر ہم ہمیشہ کے لیے کسی کو ولن نہیں بنا سکتے وقت،انسان، حالات ،خیالات سب بدلتے ہیں تو پھر غلط اور غلطی پر اڑ کر اُسے دائمی کیوں بنایا جائے؟اِسکی بنیاد پر ہمیشہ کے لیے تعلق کیوں توڑا جائے اور رشتے سے موقع کیوں چھینا جائے ”
تبصرہ نگار عائشہ
عمیرہ احمد کا قلم ہو اور کہانی میں انفرادیت نہ ہو ایسا کیسے ممکن ہے۔ یہ کہانی عمیرہ احمد کی دیگر کہانیوں سے کچھ منفرد ہلکی پھلکی اور بہت پیاری سی ہے جسے پڑھ کر آپ خوب سارا ہنسنے والا ہیں۔ یہ کہانی محبت اور حس مزح کا بہترین امتزاج رکھتی ہے۔
اس کہانی میں ثناء جو کہ ہماری ہیروئن صاحبہ ہیں انہیں اچانک سے بیٹھے بٹھائے پسند کی شادی کا شوق چڑھ جاتا ہے اور اس چکر میں کم بختی آتی ہے ان کی دوستوں کی جو اس میشن پر نکلتے ہوئے ثناء کو لئے لور لور پھرتی ہیں کہ کہیں کوئی امیر گھر کا خوبرو سا نوجوان مل جائے اور اسے ناول کی کہانیوں کے جیسے اس کی دوست سے پیار ہوجائے۔
امید ہے آپ اس کہانی کو پڑھ کر بہت مزہ کرنے والے ہیں۔
Rah e yaar hum ne qadam qadam tujhay yaadgaar bana diya Download Novel Read Online Quick Summary عزہ اقبال میرا نام عزہ اقبال ہے اور