Main Sherminda Hon by Nabila Aziz
Main Sherminda Hon by Nabila Aziz Download Read Online
Where Stories Run Wild and Imagination Runs Wilder!
Main Sherminda Hon by Nabila Aziz Download Read Online
Shaam ki mundair pe by Mawra Talha Download Read Online “وہ غلطیاں آپ کی تکلیف کا سبب بنیں تو سمجھیں گناہ بن گئیں۔۔۔”
یہ کہانی جہاں ہلکی پھلکی سی ہے وہیں خد میں ایک سنجیدہ پیغام لئے ہوئے ہے۔ کہانی پڑوسیوں کے گرد گھومتی ہے۔
یہ کہانی دوستوں کی محبت کی ہے۔ بڑوں کی محبت جب بچوں میں منتقل ہوتی ہے تو اس کی جڑیں کچھ یوں مضبوط ہوتی ہیں کہ پھر بڑوں کے دلوں میں آئی کدورت بھی اس کو کمزور نہیں کر پاتی۔ بھائی اپنی بہن کی خوشیوں کی خاطر کیسے معاشرے کے سامنے ڈھال بن جاتے ہیں یہ کہانی ان سب احساسات کے گرد گھومتی ہے۔
یہ کہانی مجھے بہت خوبصورت لگی، اک رومانوی داستان تو ہے ہی اس کے ساتھ جوائنٹ فیملی کی جو خوبصورتی دکھائی گئی ہے اور حس مزاح کے تو کیا ہی کہنے ۔
کہانی کی چھوٹی سی تفصیل یہ ہے کہ ہیرو صاحب کے گھر والے ان کی شادی کروانا چاہ رہے ہیں وہاں جہاں ہیرو بالکل رضامند نہیں ہے اور کیوں رضامند نہیں ہے اس کے پیچھے بہت مزے کی ماضی کی کہانی ہے۔
حاصل زیست مطلب کل عمر کی کمائی، یہ کہانی وجیہہ محمود کی پہلی کہانی ہے اور حیران کن طور پر اس کہانی کی بنائی ہرگز کسی نولکھاری کی سی معلوم نہیں ہوتی۔ منظر نگاری سے لے کر کرداروں کی شخصیت تک سب چیزیں بہت بہترین انداز میں رقم کی گئی ہیں۔
اس کہانی میں میرا سب سے پسندیدہ کردار آبرو کا اور تاشفین کا تھا، اپنی زندگی کے اتنے کٹھن مرحلوں سے گزرنے کے باوجود بھی انہوں نے تلخی کو اپنے اندر سمونے کی اجازت نہیں دی۔ رشتوں سے دھوکہ کھانے کے باوجود بھی انہوں نے رشتوں کے تقدس اور ان کی خوبصورتی کو برقرار رکھا۔
رتبہ ، اصباح، فائق ،زاویار اور نور فجر کے کردار بھی قابل ستائش ہیں جن کے بغیر یہ کہانی اتنی مکمل نہ ہوتی۔
سبرینہ کا سفر اور اس کا حاصل زیست ہم سب کیلئے اک غور طلب پہلو ہے جس نے اپنے اک غلط فیصلے کو زندگی پر حاوی نہیں ہونے دیا، اپنی غلطی کا اعتراف اور پھر اس پر پشیمانی نے اسے دوبارہ کھڑے ہونے میں مدد کی۔
اس نے دل میں مایوسی کو بسنے نہ دیا اور حالات کو بدلنے کی ٹھانی تو قسمت بھی اس کا ہاتھ تھامتی چلی گئی۔
یہ کہانی مختلف کرداروں کے گرد گھومتی ہے اور تجسس اختتام تک برقرار رہتا ہے۔
یہ ام ملائکہ کی پہلی تحریر ہے جس کے زریعے میرا ان سے تعارف ہوا۔ یہ کہنا ہرگز غلط نہیں ہوگا کہ بہت عرصے بعد اس قدر خوبصورت اور الفاظ کی گہرائی والی کہانی پڑھنے کو ملی۔ اس کہانی کی گہرائی اور اس کی انفرادیت نے مجھے اس کہانی کو اور ام ملاکہ کی دیگر کہانیوں کو پڑھنے پر مجبور کردیا ہے۔
یہ کہانی ہمارے معاشرے کی اس برائی کی نشاندہی کرتی ہے جس کا ذکر شاید ہی ہم نے کبھی سنا ہو۔ یہ کہانی عام انسانوں سے مختلف سوچ رکھنے والے لوگوں کی ہے۔۔۔ مجھے ہرگز یہ کہنے میں کوئی عار محسوس نہیں ہوگی کہ دیگر مسائل کی طرح یہ بات بھی آپ کی توجہ کی حامل ہے۔
یہ کہانی اک ایسی لڑکی کی ہے جسے شادی سے خوف آتا ہے ، جو ذہنی طور پر اس رشتے کیلئے تیار نہیں ہوتی۔ جس کے نزدیک محبت جسمانی قربتوں سے دور احساس، قدر روانی، ذہنی ہم آہنگی اور مسکراہٹوں سے بھرپور کسی بھی غرض سے پاک اک جذبہ ہے۔
دوسری جانب اک ایسے لڑکے کی کہانی ہے جو قریبا چند ماہ میں ہی اپنی بیوی کو اک حادثے میں کھو دیتا ہے۔
آسیہ رئیس خان کی یہ خاصیت ہے کہ اُنکی بیشتر کہانیاں اور اُنکے کردار ہمارے اور آپکے جیسی عام زندگی سے تعلق رکھنے والے اور حقیقت سے بہت قریب تر ہوتے ہیں ۔اُنکے قلم کی یہی سادگی اُنکے کام کو منفرد اور خاص بناتی ہے ۔۔۔
اس کہانی کا موضوع بھی ایسا ہی دل کو چھو لینے والا تھا کہ کیسے بعض اوقات خلوص اور نیک نیتی سے لیے ،بظاھر درست نظر آنے والے فیصلے بھی کسی کے لیے غلط ثابت ہو جاتے ہیں ایسے میں ہمیں اپنے دل میں گنجائش اور فیصلوں میں لچک رکھنی چاہیے کیونکہ۔۔۔”ہم سب کہیں نہ کہیں غلط ہوتے ہیں لیکن اِن غلطیوں کو بنیاد بنا کر ہم ہمیشہ کے لیے کسی کو ولن نہیں بنا سکتے وقت،انسان، حالات ،خیالات سب بدلتے ہیں تو پھر غلط اور غلطی پر اڑ کر اُسے دائمی کیوں بنایا جائے؟اِسکی بنیاد پر ہمیشہ کے لیے تعلق کیوں توڑا جائے اور رشتے سے موقع کیوں چھینا جائے ”
تبصرہ نگار عائشہ
عمیرہ احمد کا قلم ہو اور کہانی میں انفرادیت نہ ہو ایسا کیسے ممکن ہے۔ یہ کہانی عمیرہ احمد کی دیگر کہانیوں سے کچھ منفرد ہلکی پھلکی اور بہت پیاری سی ہے جسے پڑھ کر آپ خوب سارا ہنسنے والا ہیں۔ یہ کہانی محبت اور حس مزح کا بہترین امتزاج رکھتی ہے۔
اس کہانی میں ثناء جو کہ ہماری ہیروئن صاحبہ ہیں انہیں اچانک سے بیٹھے بٹھائے پسند کی شادی کا شوق چڑھ جاتا ہے اور اس چکر میں کم بختی آتی ہے ان کی دوستوں کی جو اس میشن پر نکلتے ہوئے ثناء کو لئے لور لور پھرتی ہیں کہ کہیں کوئی امیر گھر کا خوبرو سا نوجوان مل جائے اور اسے ناول کی کہانیوں کے جیسے اس کی دوست سے پیار ہوجائے۔
امید ہے آپ اس کہانی کو پڑھ کر بہت مزہ کرنے والے ہیں۔
جیسا کہ میں نے کہا تھا یہاں آپ کو وہ کہانیاں ملیں گی جو میں نے پڑھ رکھی ہوں گی۔ دست بے طلب میں پھول، یہ کہانی میں نے کچھ عرصہ پہلے ہی پڑھی تھی اور مجھے بہت اچھی لگی۔ سب سے منفرد اور خصوصیت والی بات یہ کہ یہ عام طور پر حویلی پر لکھی جانے والی کہانیوں سے کافی مختلف ہے اور اس میں اک ایسی رسم کے خلاف آواز اٹھائی گئی ہے جو شاید ہم جیسے لوگ تصور بھی ناں کرسکیں۔ میں نے پہلی بار اس کے متعلق تب سنا تھا جب ذہن بھی کچا تھا اور پی ٹی وی کے ڈرامے معیار کے عروج پر تھے۔
بلاشبہ یہ کہانی بہت خوبصورت ہے اور پھر عفت سحر طاہر کا قلم ہو۔ زندگی کے کسی موڑ پر آپ کو کچھ لوگ مل جاتے ہیں ناں یونہی انہیں میں سے کسی نے کہا تھا عفت سحر میری پسندیدہ لکھاری ہیں ۔
اک بھولی سی یاد آگئی تو سوچا کیوں ناں ذکر کردیا جائے۔