“بس یار وہ سٹوپٹڈ تنگ کررہا ہے مجھے۔۔۔” اس بار اس نے عمر کی طرف اشارہ کیا۔”گھر میں قدم بعد میں رکھتا ہے اور مجھے ستانا پہلے شروع کردیتا ہے۔ پورے ماہ میں نے جس میگ کا انتظار کیا ، وہ میرے ہاتھوں سے چھین کر لے گیا۔ مجھے تو کھول کر دیکھنے کا بھی موقع نہیں ملا۔”
“تو کھول کر دیکھنا بھی کیوں ہے؟ تمہاری وہ گھسی پٹی، نقل شدہ شاعری تو پبلش ہونے سے رہی۔” انداز سراسر چڑانے والا تھا اور وہ چڑ بھی گئی۔
“ہاں، تم تو بدفالیں ہی منہ سے نکالو گے، تم سے بھلا میری خوشی اور شہرت کہاں ہضم ہوگی۔”
“ہاہ،ہاہ! شہرت” وہ استہزائیہ ہنسا۔”کبھی بھولے سے تمہارا ایک شعر تو چھپا نہیں چھپا نہیں پھر وہ کون سی شہرت ہے جو مجھ سے ہضم نہیں ہوگی۔”